شرقپور کے مشہور اولیا اللہ

حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے ان اولیا کرام میں سے ہیں جنہوں نے سلسلہ نقشبندیہ میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ آپ پیدائشی ولی تھے۔ آپ اتباع نبوع ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اتباع سنت میں گذاری اور اپنے پیروکاروں کی بھی یہی درس دیا کہ زندگی کے ہر فعل میں سنت نبوی کی اتباع کرو۔ آپ جامع علوم ظاہری وباطنی تھے۔ آپ علم، ریاضت، مجاہدہ، زہد، جودوسخا اور بردباری میں بے نظیر تھے۔ گویا کہ آپ اپنے وقت کے قطب الاقطاب اور ولی کامل تھے۔ آپ کی برکت سے کئی مردہ دل نور الہی سے منور ہوئے ہیں اور آج بھی آپ کا ذکر اور نام بڑی عقیدت وارفتگی سے لیا جاتا ہے۔

آپ کے نقشبندی اباو اجداد کابل سے ہجرت کر کےپنجاب آئے اور قصور میں رہائش اختیار کی۔ وہاں سے حجرہ شاہ مقیم میں رہائش اختیار کی پھر وہاں سے شرقپور میں آکر آباد ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا نام میاں عزیز الدین تھا۔ ذات کے ارائیں تھے۔ کھیتی باڑی ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ یہاں شرقپور میں حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش 1865 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کی ولادت کے بعد ہی سے آپ کے جسم اطہر اور چہرہ نورانی سے ولی کامل ہونے کے اثار روز روشن کی طرح ظاہر تھے اور ہر شخص جو حضرت صاحب کو دیکھتاتھا بے اختیار پکار اٹھتا تھا کہ یہ بچہ تو مادر زاد ولی ہے۔ آپ کی پیدائیش سے قبل ایک مرتبہ دریائے راوی میں طغیانی آگئی۔ دریائے راوی میں جب بھی ظغیانی آتی شرقپور بھی زد میں آجاتا۔ فصلیں اور مویشی، انسان گھر سبھی متاثر ہوتے۔ اس بار جب طغیانی آئی اور تمام تدبیریں ناکام ہوگئیں تو شرقپور شریف کے لوگ قریب کے ایک قصبے کوٹلہ پنجوبیگ پہنچے۔ وہاں ان دنوں ایک نامی گرامی فقیر رہا کرتے تھے۔ زہدوتقوی، علم وفضل اور جلال وکمال کے سبب دور دور تک آپ کا چرچا تھا۔ سفید داڑھی، سرخ وسفید رنگ، اونچا قد آنکھوں میں ایک خاص چمک اور روشن چہرہ تھا۔ یہ بابا امیر الدین رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ لوگوں نے ان کے پاس جا کر دہائی دی کہ بابا شرقپور میں سیلاب آگیا ہے ہم ہر تدبیر کر کے دیکھ چکے ہیں۔ اب دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

متعدد تذکروں میں مرقوم ہے کہ بابا امیر الدین نے سوالیوں کو اپنا رومال دیا اور ہدایت کی۔ ـؒلوگو! جاو اور دریا کو یہ میرا رومال دکھا کے اس کو میرا سلام کہناـ سوالی مطمن نہیں ہوئے لیکن بابا نے خاموشی اختیار کر لی۔ آخر لوگ امیدوبیم کے عالم میں رات کے وقت شرقپور واپس پہنچے۔ دریا ٹھاٹھیں ماررہاتھا اور شہر کے گرد مسلسل اپنا گھیرا تنگ کر رہا تھا۔ لوگوں نے بابا کی ہدایت پر بعینہ عمل کیا اور اپنے گھروں کو جاکر عبادت میں مشغول ہوگئے۔ دوسری صبح دریا شرقپور سے تین کلومیڑ پرے ہٹ گیا اور مکان ومکین دونوں ناگہانی بلا سے محفوظ ہوگئے۔

سیلاب کے کچھ عرصہ بعد لوگوں نے رومال والے بابا امیر الدین کو شرقپور میں دیکھا۔ شہر کے لوگ سمٹ سمٹا کر ان کے گرد جمع ہوگئے اور تعظیم واحترام سے دعا کے طالب ہوئے۔ کسی نے جرات کر کہا کہ حضور غلاموں کو خدمت کا موقع دیجیے۔ بابا مسکرائے اور ایک جانب چل دیے۔ شرقپور اسے زمانے میں ایک قلعہ نما بستی تھی۔ کچے پکے مکانات اور تنگ گلیاں تھیں۔ بابا بڑھتے جارہے تھے، ان کے پیچھے ایک ہجوم سرجھکائے چل رہا تھا۔ وہ ایک تنگ گلی میں پہنچ کر ایک مکان کے پاس ٹھہر گئے اور لمبی لمبی سانسیں کھینچنےلگے۔ لوگوں کو بہت جستجو ہوئی لیکن کچھ سوچ کر خاموش ہورہے۔ اس کے بعد بابا کا شرقپور میں آنا جان معمول بن گیا۔ وہ جب بھی آتے مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے اس مکان تک پہنچتے اور گہری گہری سانسیں لینے لگتے۔ ایک دن کسی انے آگے بڑھ کر پوچھ لیا۔ بابا تم کیا سونگھتے ہو یہاں۔ بابا امیر الدین بے نیازی سے جواب دیا۔ جا اپنی راہ لے۔ پھر وہ مضطرب انداز میں بولے خوشبو آتی ہے، پر خود نہیں آتے۔ آس پاس کھڑے لوگوں نے پوچھا بابا کیا کوئی خوشبو آتی ہے جو اتنی لمبی لمبی سانسیں کینچھتے ہو تم۔۔۔ بابا مسکرائے، ہاں بیلیو خوشبو تو آتی ہے پر اب انہیں بھی آجانا چاہیے لوگ پوچھتے۔ بابا کسے ؟ بابا سوال کرنے والوں کو اضطراری نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ جاتے۔ 1857 کی جنگ آزادی ناکام ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ برطانوی حکومت مسلمان باغیوں کی تلاش میں پنجاب کا گاوں گاوں چھان رہی تھی۔ چھاپے پہ چھاپے پڑ رہے تھے۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ کچھ حجت پسند لوگوں نے شرقپور میں بابا امیر الدین کی معنی خیز آمد کو نئے نئے رنگ دینے شروع کر دیے۔ بعض لوگ نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اس شک کا اظہار کیا کہ کہیں یہ شخص درویش کے لبادے میں فرنگیوں کا کوئی کارندہ نہ ہو اور یہاں باغیوں کی تلاش میں نہ آتا ہو۔ اسی دوران کا ذکر ہے۔ 1865 کی ایک رات تھی لوگوں نے بابا امیر الدین کو پھر شرقپور میں دیکھا۔ آج بابا درمیان میں کہیں نہ ٹھہرے۔ انہوں نے سیدھے اس مکان پر جا کر دم لیا، جہاں سے انہیں خوشبو آتی تھی۔ آج ان کا عالم ہی کچھ اور تھا۔ لوگوں نے انہیں اس عالم میں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ آج نہ انہوں نےلمبی لمبی سانسیں کھینچیں، نہ کسی ترددوتجسس کا اظہار کیا۔ جو یہاں آکر ان پر طاری ہو جاتاتھا۔۔۔ لوگوں نے بابا سے اس تبدیلی کا سبب پوچھا۔ بابا نے ساختہ اس مکان کی طرف اشارہ کیا اور والہانہ انداز میں بولے۔ دیکھا وہ آگئے۔ آخر آہی گئےہیں۔۔۔ متحیر لوگوں نے سوال کیا۔ کون آگئے باب۔۔۔۔بابا نے خندہ لبی سے جواب دیا، میاں عزیز الدین سے پوچھو جا کے۔ لوگوں بے تابانہ بڑھ کر دروازے پر دستک دی۔ پتا چلا کہ آج اس گھر میں ایک لڑکا پیدا ہواہے۔ لوگ مڑے مگر بابا جاچکے تھے۔ شہریوں کی نظر میں میاں عزیز الدین کے گھر کی وقعت اور بڑھ گئی۔ ہر چند کہ پہلے بھی یہ گھر اپنے مکینوں کی پرہیزگاری کے باعث بستی کے ایک ممتاز گھر کی حشیت سے پہچانا جاتا تھا۔

آباو اجداد اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد رحمتہ اللہ علیہ

حضرت میاں شیر محمد المعروف شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کے آباو اجداد افغانستان سے ہندوستان آئے تھے پہلے وہ دیپالپور میں مقیم ہوئے پھر زمانے کے انقلاب نے خاندان کے بعض بزرگوں کو شہر قصور میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔ علم وہنر کے سبب شہر کے روسا ان کے حلقہ بگوش ہوگئے اور انہیں مخدوم کے لقب سے یاد کرنے لگے۔ دین کی تدریس و تبلیغ ک سوا اس خاندان کا کوئی مشغلہ نہیں تھا۔۔ وہ محنت و مشقت کی روزی پر یقین رکھتے تھے اس لیے اپنی کتابوں اور قرآن پاک کی کتابت کرتے تھے۔ قرآن پاک کا حفظ اس خاندان کی روایت تھی۔ حالات کچھ معمول پر آئے تو ان میں چند بزرگ دیپال پور واپس چلے گئے مگر خاندان کے باقی لوگوں کو قصور کی آؓب وہوا اور اس کے لوگ ایسے پسندآئے کہ وہ وہیں کے ہوکے رہ گئے۔ میاں عزیز الدین کے نانا مولوی غلام رسول کو قصور کے باشندے بے حد عزیز رکھتے تھے۔ مولوی غلام رسول تپاک ، انکسار، دیانت اور زہد وتقوی میں ایک مثال تھے۔ وہ حافظ ہونے کے علاوہ خطاط بھی تھے۔ لوگ اپنے دینی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے ان ہی سے رجوع کرتے تھے۔
اس دور میں قصور آج کے قصور سے بہت مختلف تھا اس وقت شہر کا ستارہ عروج پر تھا اور پنجاب کے خوشحال علاقوں میں اس کا شمار ہوتا تھا دور دور کے صاحبان کمال اور اہل ہنر یہاں جمع ہو گئے تھے۔ نیز یہ شہر ایک تجارتی مرکز بھی تھا۔ پھر نجانے کیا ہوا قصور کو کسی کی نظر لگ گئی۔ یہاں کے حاکم نواب نظام الدین خاں کی مہاراجہ رنجیت سنگھ سے رنجش ہوگی۔ رنجیت سنگھ کی یورش سے تقریبا سبھی کچھ تباہ وبرباد ہو کے رہ گیا۔ تاہم کچھ عرصہ بعد پھر سے عمارتیں اٹھنے لگیں۔ پھر دوسرے یا تیسرے سال شہر کے دوسرے حاکم نواب قطب الدین کے عہد میں رنجیت سنگھ نے دوبار فوج کشی کی اور وہ ریاست کو غضب کرنے ارادہ رکھتا تھا۔ لوگوں نے اس بار بھی زبردست جنگ کی لیکن دو ماہ کے محاصرے نے شہر کے غلے کے زخیرے کو ختم کر دیا اور ایسا قحط پڑا کے لوگ دانے دانے کو ترسنے لگے، مویشیوں پر گزار ہونے لگا مویشیوں کے بعد سواری کے گھوڑوں کی باری آئی، لوگوں نے انہیں سے پیٹ بھرا۔ آخر یہ ذخیرہ بھی ختم ہو گیا۔ مرتے کیا نہ کرتے لوگ شہر سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ میاں غلام رسولؒ بھی قصور کے ایک قصبے حجرہ شاہ مقیم چلے گے اور خوشنویسی کا مشغلہ اختیار کر کے جیسے تیسے زندگی بسر کرنے لگے مگر کچھ عرصے بعد انہیں یہاں سے بھی ہجرت کرنی پڑی یاایں کہ انہوں نے شرقپور آ کے پناہ لی۔ شرقپور نے ان خانماں بربادوں کے لیے اپنے دروزے کھول رکھے تھے۔ مولوی غلام رسول نے وہیں اپنا مسکن بنایا اور ایک مسجد اور ایک مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اس کچی پکی درس گاہ نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی علمی خانقاہ کی صورت اختیار کر لی۔ مولوی غلام رسولؒ کے ایک بھتیجے تھے حافظ غلام حسین ۔ ان سے میاں صاحب نے اپنی اکلوتی لڑکی آمنہ کی شادی کردی تھی۔ انہی کے بطن سے میاں عزیز الدین ؒ تولد ہوئے۔ تقوی کسی کو ورثے میں نہیں ملتا البتہ عبادت و ریاضت کا ماحول میاں عزیز الدین کو ورثے میں ملا تھا۔ وہ ایک شب بیدار بزرگ تھے باطنی علوم کے علاوہ ظاہری علوم سے بھی پیراستہ تھے۔ دینوی امور میں گھر میں رہنے کے باوجود دنیا سے بچے بچے رہتے تھے۔ ضلع حصار کے محکمہ ویکسی نیشن سے وہ ایک مدت تک وابستہ رہے۔ تعطیلات میں وہ اپنے گھر شرقپور میں آتے تھے۔ نوکروں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلانا ان کا معمول تھا۔ اپنے کپڑے وہ خود دھوتے تھے۔ بلکہ بسا اوقات نوکروں کے کپڑے بھی دھو دیتے تھے۔ ان کے محکمے میں رشوت ستانی عام تھی لیکن انہوں نے ساری عمر سوکھی تنخواہ پر بسر کی۔ جو خوشبو شرقپور کی ایک گلی میں بابا امیر الدین سونگھتے تھے وہ میاں عزیز الدین کے ہاں ایک فرزند کی صورت میں مجسم ہوئی۔ والدہ آمنہ نے اپنی خاندانی روایات کے مطابق نومولود کی تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ ساتویں روز لڑکے کا نام شیر محمد رکھا گیا۔

حضرت میاں شیر محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بچپن

بابا امیر الدین تو اشارہ کر کے چلے گے لیکن اشاروں سے کیا ہوتا ہے۔ میاں عزیز الدین کے لیے ان کا بیٹا ایک بیٹا ہی تھا اور محلے داروں کے لیے دوسرے بچوں جیسا ایک بچہ۔ میاں غلام رسول خاندان کے سب سے معمر بزرگ تھے انہوں نے آپ کا چہرہ دیکتھے ہی آپؒ کے منہ میں زبان ڈال دی۔ شیر خوار دیر تک ان کی زبان چوستے رہے۔ اس طرح ورثہ منتقل ہو گیا۔ میاں غلام رسولؒ کو آپ کے نانا کے علاوہ دادا کی حثیت بھی حاصل تھی۔ اوہ انہیں ایک پل کے لیے بھی آنکھوں سے اوجل نہ ہونے دیتے اور کمسنی میں ہی علم وحکمت کے رموز سمجھانے کی کوشش کرتے۔ آپ پلکیں پٹ پٹاتے اور مسکراتے ہوئے سنتے رہتے۔ آپ میں سادگی اور معصومیت کے ساتھ ساتھ بعض مجنونانہ ادائیں بھی تھیں۔ جو نانا کو دیوانہ کر دیتی تھیں۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ آپ کو ہمہ وقت سینے سے لگائے رکھیں۔ نانا اور نواسے کی یہ رقابت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ میاں غلام رسولؒ کا بلاوا آگیا۔ زندگی کے آخر لمحوں میں میاں غلام رسول نے اپنے دوسرے نواسے یعنی میاں عزیز الدین کے بھائی حمید الدین کو وصیت کی تھی کہ ، دیکھ حمید! ہم شیر محمد کو تیرے حوالے کر رہے ہیں جو کچھ تجھے آتا ہے وہ ایسے سونپ دے اور جو کچھ نہیں آتا اس کے لیے بھی اس کی رہنمائی کر۔ ہماری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔ حافظ حمید الدین کا شمار عربی و فارسی کے اساتذہ میں ہوتا تھا۔

آپ جیسے ہی چلنے پھرنے کے قابل ہوئے قرآنی آیات سے آپؒ کی تعلمیات کا آغاز کیا گیا۔ آپ نے پہلا قاعدہ بہت جلد ازبر کر لیا تھا۔ ماں اور چچا کی نگرانی میں آپؒ نے گھر میں ناظرہ قرآن ختم کیا۔ وہ حرف شناس ہوگئے تھے۔ چچا نے آپ کو شرقپور کے سکول میں داخل کروایا۔ سکول کی فضا آپ کے لیے نئی تھی، ماں اور چچا کی خواہش پر آپ پابندی سے سکول تو چلے جاتے مگر وہاں آپ کا جی نہیں لگتا تھا۔۔ چچا آپ کی بے دلی پر ہراساں ہو گے۔ آپ کے اساتذہ بتاتے کے آپؒ جماعت میں گم سم بیٹھے رہتے ہیں۔ آپ کا عجب عالم تھا چھٹی کی گھنٹی بجتی تو سب بچے کھیل کود میں مشغول ہو جاتے لیکن آپ مسجد کا رخ کرتے اور وہاں جاکر سرجھکائے تنہا بیٹھے رہتے۔ بہر صورت کسی نہ کسی طرح آپ نے پانچویں جماعت پاس کر لی۔ چچا کو احساس ہو گیا کہ مدرسہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے مستقل طور پر آپ کے نگاہوں کے سامنے رکھنا شروع کر دیا اور فارسی کی درسی کتب سے ابتدا کی۔ دادا حافظ محمد حسین نے بھی توجہ کی اور قرآن کا آموختہ کرایا۔ آپ کا یہ حال تھا کہ جب سپارہ پڑھنے کو دیا جاتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے سپارہ بھیگ بھیگ کر چند روز میں خستہ ہو جاتا۔ دادا آپ کی اشک فسانی کی وجہ پوچھتے تو جواب سکوت کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ دادا اور چچا کی درخواست پر شہر کے ایک عالم حکیم شیر علی نے آپ کو کتابوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے اب بھی کتابوں میں کسی دلچسپی کا اظہار نہ کیا۔ ہاں آپ کو خوشنویسی سے ضرور کسی قدر رغبت ہوئی۔ مدرسے ہی میں آپ حروف و الفاظ کو ایک کہنہ مشق خطاط کی طرح نئی نئی شکلیں دینے لگے تھے۔ آپ نے مختلف خطوں میں قرآن پاک لکھنے کی مشق کی۔ آپ کی مکتوبہ بیاضیں اور قرآنی نسخے دیکھ کر بڑے بڑے کاتب نقاش اور خطاط انگشت بہ لب رہ جاتے تھے۔ کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کام نو مکتب کا کیا ہوا ہے۔ درج میں اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ سے لکھا ہوا اسم ذات آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

یہ شغف تو تھا ہی، آپ کو بچپن سے ایک اور شوق بھی تھا۔ آپ کو گھوڑے بہت پسند تھے۔ آپؒ کو گھوڑوں اور ان کی سواری کا شوق تھا۔ کھبی طبعیت جولانی پر آتی تو آپ گھوڑے پر بیٹھ کر شہر سے میلوں دور نکل جاتے۔ شہر کے لوگ دنگ رہ جاتے کہ اس لڑکے کی تو ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی ہیں، یہ کس بے جگری سے ایک قوی الحبثہ گھوڑے پر اڑا جارہا ہے۔

باقی کی تفصیل بھی بہت جلد اپ ڈیٹ کی جارہی ہے۔

حضرت میاں غلام اللہ جنہیں محبت اور عقیدت کی دنیا میں ثانی لا ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد (شیرربانیؒ) رحمتہ اللہ علیہ کے حقیقی بھائی تھے۔ آپ 1891 عیسوی میں شرقپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے ابھی بچپنے اور کھیلنے کے دن تھے کہ آپ سایہ پدری سے محروم ہوگئے۔ باطنی طور پر اس میں کیا حقیقت تھی ہم نہیں جانتے مگر ظاہری طور پر یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تربیت اس شیرربانی کے سپرد کرنی تھی جو سلسلہ نقشبندیہ میں بے بہا شہرت کے مالک تھے۔ آپ اتباع نبوی ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ نے زندگی بھر سنت نبوی ﷺ کا اتباع کیا اور لوگوں کو بھی یہی درس دیا کہ زندگی کے ہر عمل میں سنت نبوی ﷺ کا اتباع کرو۔ آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ زہدوتقویٰ ،جودوسخا اور برد باری میں بے نظیر تھے۔

آپ نے حضور قبلہ ثانی صاحبؒ کی تربیت اپنے ذمہ لی۔ تو انہی صفات سے آپ کی زندگی کو مزین کرنے لگے۔ آپ نے اولا قرآن پاک کی ناظرہ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد سکول میں داخل ہوئے۔ اور میٹرک پاس کرنے کے بعد آپ طبیہ کالج لاھور میں داخل ہوے۔ حکیم حازق کا امتحان پاس کیا پھر کچھ عرصہ تک حکیم محمد اسمعاعیل مخی سےطبابت کے فن میں مہارت حاصل کرتے رہے۔ مگر آپ نے طبابت کے پیشے کو اپنایا نہیں۔ کیا خبر یہ انسان کی ان بیماریوں کو دور کرنے کی بیناد ہو جن کا تعلق جسم کے بجائے روح سے زیادہ ہوتا ہے۔ آپ نبض پکڑتے تو اس کی حرکت سے روحانی بیماریوں کی تشخیص فرماتے اور دوا کی نسبت دعا اور نظر سے علاج فرماتے۔

ثانی صاحبؒ قبلہ نے ٹاون کمیٹی شرقپور میں بطور سیکرٹری ملازمت بھی کی۔ اعلیٰ حضرت میاں شیرمحمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس نوکری کو پسند نہیں فرمایا۔ گو یہ بھی عوام کی ایک خدمت تھی مگر اس کی نست آپ فقر کی راہ میں خدمت کرنے کے لیے آپ کو تیار کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے اس ملازمت کو جلد ہی خیر آباد کہہ دیا۔ غالبا 1921 عیسوی کی بات ہے کہ کسی شخص نے اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد شیرربانیؒ سے عرض کیا کہ چونکہ حضرت قبلہ میاں غلام اللہ صاحبؒ کا رحجان فقیری کی طرف نہیں ہے بس شہزادگی کو پسند فرماتے ہیں۔ آپ کے بعد اس مسند کا کیا بنے گا؟ آپ نے فرمایا جب کوئی تھاندار یا تحصیل دار بدل جاتا ہے تو اس کی جگہ پر کون آتا ہے اعتراض کرنے والے نے عرض کیا کوئی تھاندار یا تحصیل دار ہی آتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا اسی بات پر قیاس کر لو کہ اس گدی کو سنبھالنے والا بھی کوئی اہل گدی ہی ہو گا۔ یہ ایک ایسی بات تھی جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ حضور ثانی صاحب کو اس گدی کے اہل بنا رہے تھے۔ ماسٹر رانا شاہ محمد مرحوم اس بات کے راوی ہیں۔ کہ وہ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے اور برج اٹاری سے جمعہ والا دن میاں صاحب کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کی غرض سے آیا کرتے تھے۔ ایک جمعہ کو اعلیٰ حضرت میاں صاحب بڑے سادہ طریقے سے تقریر فرما رہے تھے۔ اور میاں غلام اللہ صاحبؒ کلاہ پر طرہ والی پگڑی باندھے محفل وعظ میں بیٹھے تھے۔ آپ نے انہیں دیکھا انہوں نے آپ کو دیکھا آنکھیں چار ہوئیں تو اچانک ایک نعرہ بلند ہوا۔ میاں غلام اللہ صاحبؒ اپنی جگہ سے اٹھے اور بے خودی کی حالت میں آپ کے قدموں میں آگرے۔ دکھانے والے نے کیا دکھایا اور دیکھنے والے نے کیا دیکھا؟ یہ ایک راز تھا اور راز ہی رہا۔ مگر نگاہ کام کر گئی آپ میاں غلام اللہ ثانی لا ثانیؒ بن گئے۔ پھر سلوک کی منزلیں طے کرتے چلے گئے۔ اسی طرح جب 1928 میں اعلیٰ حضرت میاں صاحب (حضرت شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ) نے وصال فرمایا تو آپ دینا روحانیت سے آشنا ہو چکے تھے۔ آپ میں انسان کی دلی کفیات کو سمجھنے اور انہیں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوچکی تھی۔

یہ کم وبیش 1943 کی بات ہے۔ حضرت سید الف شاہ صاحب جو میاں صاحب کی مسجد میں بطور امام تھے اور بچوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتے تھے۔ انہیں روحانی وظائف پڑھنے کا شوق پیدا ہوا وہ رات گئے اس کام میں مشغو ل رہتے تھے۔ روحانی دنیا میں ان کے سفر ہونے لگے ایک دن فجر کی نماز کے بعد آپ اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے ۔ یہ حجرہ حضرت ثانی صاحبؒ کے حجرے کے قریب ہی تھا، حضور ثانی صاحبؒ اپنے حجرے میں جانے کی بجائے، الف شاہ صاحب کے حجرے میں چلے گئے اس وقت حضرت قبلہ الف شاہ صاحب پر روحانی بارش ہورہی تھی۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر تھے۔ ثانی صاحب نے جو انہیں اس حالت میں دیکھا تو فرمایا شاہ صاحب! اتنی جلدی نہ کریں ابھی تو اور محنت کی ضرورت ہے۔ ثانی صاحب کا یہ فرمانا تھا۔ کہ شاہ صاحب اپنی حالت میں آگئے ان کی بے خودی کی حالت بدل گئی۔ فرمایا شاہ صاحب آپ میر ے کمرے میں آئیں۔ آپ حضرت ثانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کن کن رموز سے پردے اٹھائے گئے اور کن امور پر گفتگو ہوئی۔ بہرحال الف شاہ صاحب کو یہ شکوہ ضرور رہا کہ انہوں نے اجازت کے بغیر جس منزل کی طرف جانے کا سفر کیا تھا وہ منزل انہیں نہیں مل سکی۔ حضرت ثانی لا ثاںی میاں غلام اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تحریک پاکستان میں بھی بھر پور کام کیا۔ مسلم لیگ کا شرقپور شریف میں پہلا اجلاس آپ کی کوششوں سے اور آپ کی صدارت میں ہوا۔ اور اس کے اخراجات بھی آپ نے ادا کیے۔ یہ جلسہ ملکانہ دروازہ شرقپور شریف میں ہوا جس کی صدارت حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ نے خود فرمائی اور معزز مہمان جو باہر سے تشریف لائے ان میں
راجہ غضنفر علی
شیخ کرامت علی
چوہدری روشن دین بھنگو
صوفی عبدالحمید
میجرعاشق حسین
چودھری محمد حسین چٹھہ
ملک محمد انور
میاں افتخار الدین
اور دیگر عظیم رہنما شامل تھے جلسہ کا آغاز دن کے 10 بجے ہوا اور اڑھائی گھنٹے تک اس کی کاروائی جاری رہی۔ لوگ آخر وقت تک جم کر بیٹھے رہے۔ اس جلسہ میں 50 ہزار روپے کی خطیر رقم کی ایک تھیلی بھی مسلم لیگ کو پیش کی گئی۔ جلسے کے سارے اخراجات حضرت قبلہ ثانی صاحب نے خودبرداشت کیے۔ اس جلسے کے بعد اب مسلم لیگ کو شرقپور شریف میں ایک پلیٹ فارم پر کام کرنے کا موقع مل گیا۔ حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ اس کے سرپرست تھے ۔ اس جلسے کے بعد چھوٹی بڑی میٹنگیں اکثر ہوتی رہیں۔ اور اکثر مسلم لیگ کے ضلعی اجلاس میں آپ شرکت فرماتے رہتے۔ بلکہ آپ نے پنجاب میں ایک بھرپور دورہ کیا۔ اس سلسلے میں آپ کے لاھور، امرتسر، فیروز پور، لائل پور (فیصل آباد) سرگودھا، جھنگ، میانوالی، سائیوال (سابقہ منٹگمری)، ملتان، بہاولپور کے دورے کیے جو بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ آپ کی یہ کوششیں خوب رنگ لائیں۔ اللہ نے مسلم لیگ کو کامیابی عطا فرمائی اور مخالفین کے منہ کھلے کہ کھلے رہ گئے۔

حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ کو تمباکو نوشی سے سخت نفرت تھی۔ ایک بار ایسا ہوا کہ آپ کے بڑے صاحبزادے میاں غلام احمد صاحبؒ نے اپنی زمینوں پر تمباکو لگا دیا۔ تمباکو کی مہنگی پنیری، زمین کی تیاری اور اسے لگوانے کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ ابھی فصل کو لگے ہوئے ایک ہفتہ ہوا تھا کہ ثانی صاحب زمینوں پر گئے تمباکو کی کاشت کو دیکھا فرمایا۔ یہ کس کی اجازت سے لگایا گیا ہے؟ اتنے میں صاحبزادہ صاحب بھی آگئے۔ آپ نےان سے سخت ناراض ہوکے پوچھا کہ یہ حرام فصل کیوں کاشت کی گئی ہے؟ حضرت صاحبزادہ میاں غلام احمد نے فرمایا، حضور یہ بڑی نفع بخش فصل ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے نفع کی ضرورت نہیں۔ مجھے تو اللہ تعالی اور اس کے حبیب ﷺ کی رضا مطلوب ہے۔ فرمایا اس تمباکو کے ایک ایک پودے کی اکھاڑ پھینکو، ایک خادم آگے بڑھا عرض کیا۔ حضور ہل چلادیتے ہیں۔ فرمایا نہیں ہل نہیں چلانا ہاتھوں سے اس کے ایک ایک پودے کو اکھاڑ پھینکو اس کی ایک پتی تک کھیت میں نہ رہنے پائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

آپ کو تبلیغی کاموں کا بے حد شوق تھا۔ 1944 میں جامعہ حضرت میاں صاحب کی بنیاد رکھی۔ مٹھی بھر آٹا سکیم کے تحت جامعہ کے طالب علموں کے لنگر کا انتظام کیا گیا۔ ہر گھر میں مٹی کا ایک ایک کجار رکھا گیا جس میں عورتیں آٹا گوندتے وقت مٹھی بھر آٹا ڈال دیتی تھیں۔ دو ہفتے بعد یہ کجے مدرسہ میں بھیج دئیے جاتے۔ شروع میں اس مدرسہ کا انتظام میاں صاحب والی مسجد میں کیا گیا۔ پھر حافظ نور علی صاحب کے مکان میں منتقل کیا اور جب محلہ عیدگاہ حضرت باباگلاب شاہ صاحبؒ کے مزار کے سامنے جامعہ کی اپنی عمارت بن گئی تو استاد اور بچے ادھر آگئے۔ اس مدرسے میں بڑے قابل اساتذہ بچوں کی تعلیم وتدریس کے لئے رکھے گئے۔ چند ایک کے نام یہ ہیں۔
مولانا قاضی عبدالسبحانؒ
مولانا اللہ بخشؒ
حضرت مولانا غلام رسول صاحب رضوی شیخ الحدیث فیصل آباد
حافظ محمد علی صاحبؒ
قاری محمد حسن ہوشیارپوری
مولانا عاشق حسین میاں چنوں
مفتی نور حسین صاحب موجودہ صدر مدرسہ
یہاں سے فارغ ہو کر علما ملک کے گوشے گوشے میں جانے لگے مگر جب 1957 میں حضو قبلہ ثانی صاحب کا وصال ہو گیا اور اکتوبر 1958 میں ملک میں فوجی انقلاب آگیا تو دینی مدارس، مساجد اور درگائیں محکمہ اوقاف نے سنبھال لیں۔ جامعہ حضرت میاں صاحب بھی اوقاف کی تحویل میں چلا گیا۔ سرکاری محکموں کی طرح اس میں بھی بے قاعدگیاں آگئیں۔ استاد صرف تنخواہ لینے کے لیے رہ گئے۔ بچوں کی تعلیم کم ہونے لگی یہاں تک کہ صرف قرآن مجید پڑھنے والے چند بچے رہ گئے۔ جامعہ کی بربادی ہوگئی۔ جب وزیر اعلیٰ پنجاب (میاں محمد نواز شریف) موجودہ وزیر اعظم پاکستان شرقپور شریف میں تشریف لائے توصاحبزادہ حضرت میاں غلام احمد صاحب کی کوششوں سے یہ مدرسہ واگزار کر دیا گیا۔ مگر وہ رونقیں واپس نہ لوٹ سکیں۔

اعلیٰ حضرت شیرربانیؒ نے شرقپور شریف، لاھور، کوٹلہ شریف اور مکان شریف میں مساجد تعمیر فرمائی تھیں۔ ان میں کچھ کچی تھیں۔ حضرت ثانی صاحب قبلہ نے اپنے بڑے بھائی کی روائت کو قائم رکھتے ہوئے انہیں پختہ کیا اور انہیں آباد کرنے کی بھی کامیاب کوشش فرمائی۔ ماسٹر محمد انور قمر صاحب مرحوم سابقہ استاد گورنمنٹ پائلٹ سیکینڈری سکول شرقپور، رقم طراز ہیں کہ وہ اپنے بچپنے میں حضرت قبلہ الف شاہ صاحبؒ سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ مسجد کے مہمانوں کے لیے میاں صاحب کے گھر سے لسی لانے کے لیے اکثر مجھے شاہ صاحب بیجھا کرتے تھے۔ میاں صاحب کے گھر کے سامنے ایک کالے رنگ کی کتیا بیٹھی رہتی تھی۔ وہ اجنبی لوگوں پر بھونکا بھی کرتی تھی اور نہیں کاٹنے کو پیچھے بھی دوڑنے لگتی تھی۔ میں اس کے لیے اجنبی تو نہ تھا۔ مگر اسے دیکھ کر ڈرتا ضرور تھا۔ ایک دن نہ جانے اسے کیا ہوا وہ مجھ پر بھی بھونکنے لگی اور کاٹنے کو دوڑی۔ میں ڈر کر بھاگنے لگا تو اس نے میرا پیچھا کیا میں کبھی اسے دیکھتا اور کبھی آگے کو بھاگتا۔ جب میں گلی اور بازار کی نکٹر پر پہنچا تو بازار میں آتے ہوئے حضرت ثانی صاحب گلی مڑنے لگے۔ میں چونکہ تیزی میں تھا دھیان پیچھے کی طرف تھا میں ثانی صاحبؒ سے جا ٹکرایا۔ ثانی صاحبؒ چونکہ جانتے تھے کہ میں مسجد کا طالب علم ہوں۔آپ نے دونوں ہاتھوں سے مجھے سنبھال لیا اور فرمایا کیا ہوا۔ میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ گھبراہٹ کے عالم میں بڑی مشکل سے بس یہ کہا حضور کتیا کاٹنے کو میرا پیچھا کر رہی تھی۔ حضور نے مجھے فرمایا آو میرے ساتھ اب کتیا آپ کو نہیں کاٹے گئی۔ واقعۃ ایسا ہی ہوا اس کے بعد یہ کتیا ثانی صاحب کے حکم کی پابند ہوگئی اب جب بھی میں لسی لینے کے لئے جاتا۔ یہ کتیا اپنا سرجھکا کر دم ہلانے لگتی۔ مجھے یہ واقعہ یاد کر کے تعجب ہوتا کہ حیوان تو اللہ والوں کے تابع فرمان بن جاتے ہیں مگر انسان میں نہ جانے سرکشی کیوں ہے؟

حضرت قبلہ ثانی صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے۔
دینوی معاملات میں سادگی اور دیانتداری اختیار کرو۔
مسلمانوں کو تجارت کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
تبلیغ دین واسلام میں کوشش کرنی چاہیے۔
مسلمان دین اور دنیا میں فرق نہیں کرتا۔
اسلام کی طاقت کے سامنے ساری طاقتیں نابود ہیں۔

حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ کا وصال سات ربیع الاول 1377ہجری بمطابق 13اکتوبر 1957 عیسوی میں ہوا۔ آپ کو اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار میں ان کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

ممتاز شاعر اور خطیب حضرت مولانا اکبر علی شرقپوری فرماتے ہیں۔

حٖضرت شیرربانی دے باغ اندر بن کے رہے نیں سدا بہار ثانی
ایس گل دے وچ نہ شبہ کوئی ولیاں وچ ہو گئے تاجدار ثانی
ایتھے جو آوے خالی نہ جاوے رہوے وسدا تیرا دربار ثانی
تہانوں شیر ربانی دا واسطہ اے بیڑا کر دینا میرا پار ثانی۔

پاکستان کے تاریخی شہر سیالکوٹ کے آخری ضلعی حصے پر ایک قدیم گاوں چوپالہ کے نام سے مشہور ہے۔ جو دریائے چناب کے کنارے پر واقع ہے۔ کئی باردریا کی زد میں آیا پھر آباد ہوا۔ دریا کے کنارے پر اسی گاوں کے متصل ایک قدیم گاوں نوشہرہ میانیاں کے نام سے بھی مشہورتھا۔ جو ضلع گجرات کے آخری گوشے پر واقع تھا۔ یہ گاوں بھی کئی بار دریا برد ہوا اور پھر آباد ہوتارہا۔ اب پھر یہ نئی صورت میں نوشہرہ خوجیاں کے ساتھ نوشہرہ میانیاں کے نام سے آباد ہے۔ قدیم زمانے میں مذکورہ دونوں دیہات کے لوگ کشتی کے ذریعے ادھر ادھر کا سفر کرتے تھے۔
تقریبا 1600 ہجری بمطابق 1655 عیسوی میں اس قدیم چوپالہ میں ایک بزرگ ہستی پیدا ہوئی۔ جس کا نام مراد رکھا گیا۔ کنزالرحمت میں میاں محمد مراد جیو لکھا ہوا ہے۔ والد بزگوار کا نام مست تھا۔ بخت جمال آپ کے تایا تھے۔ جن کے نام پر جھنگی بخت جمال گاوں مشہور ہے۔ آپ تین بھائی تھے۔ سب سے چھوٹے کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ جو شرقپور شریف کے مشہور بزرگ حضرت میاں ہرنی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے والد بزگوار تھے۔

تذکروں کے مطابق آپ نے ابتدائی تعلیم گاوں کے علما سے اور اپنے خاندانی بزرگوں سے حاصل کی۔ پھر کچھ عرصہ سیالکوٹ میں ملا عبدلحکیم سیالکوٹی کے مدرسے میں زیرتعلیم رہے اور سند فراغ حاصل کرنے کے بعد روحانی تربیت کے لیے متذکرہ بالا گاوں نوشہرہ میانیاں میں آنے جانے لگے۔ جہاں نوشاہی سلسلہ فقر کے ممتاز ترین ولی اللہ حضرت پیر محمد سچیار کنبل پوش نوراللہ مرقدہ کی بارگاہ ولائت تھی۔ میاں محمد مراد اپنے معمول کے مطابق روزانہ اپنے گاوں سے دریاپار کرکے یہاں آتے اور آپ فیض حاصل کرتے۔ کنبل پوش سے نسبت بیعت استوار کی اور پھر شب وروز مرشد ہی کے قدموں میں ڈیرہ جمالیا۔ ریاضت مکمل ہوئی تو شیخ نے دستار خلافت پہنائی اور تبلیغ اسلام کے لئے ہجرت کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ شیخ کامل کے حکم سے دریائے راوی کے علاقے کی طرف چل پڑے۔ نوشہرہ سے رانابھٹی پہنچے (جو لاھور جڑانوالہ روڈ پر واقعہ ہے۔) یہاں چند برس قیام فرمایا۔ آپ کے دوسید خلفا کے مزارات بڑکے پرانے درختوں کے نیچے موجود ہیں۔ جہاں ہر سال عرس کی تقریبات ہوتی ہیں۔ پھر یہیں سے آگے چند میل دور ایک گاوں روہڑا میں آگئے اور تین سال کے قیام کے بعد موضع وزیرہ ورکاں کی دھرتی میں قدم رنجہ فرمایا۔ ان دونوں دیہات میں بھی آپ کے خلفا کےمزارات موجود ہیں۔ جہاں فقیرانہ تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے۔ آپ جہاں جہاں سے بھی گزرے اور جہاں جہاں پہنچے، دینی علوم اور اسرار معرفت سے لوگوں کی زندگیوں کو منور کرتے رہے۔

آخر آپ کا یہ سفر ہجرت شرقپور شریف کے مقام پر احتتام پذیر ہوا۔ جو اس وقت دریائے راوی کے کنارے پر دوسری بار نیا نیا آباد ہورہا تھا۔ آپ نے یہاں اپنی رہائش کے لئے جگہ منتخب کی۔ خانقاہ کی بنیاد ڈالی اور تبلیغ و عبادت کے لئے مسجد تعمیر کی جو اپنی تاریخی عظمت کے ساتھ آپ کے مزار مبارک کے ساتھ ہی موجود ہے۔ آپ کی طویل عمر کا بقیہ حصہ یہیں مخلوق خدا کی خدمت،رب العالمین کی عبادت اور اسلام کی اشاعت میں بسر ہوا۔ روحانی سطح پر آپ پہلے ولی اللہ ہیں جنہیں شرقپور شریف کے آباد کار اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ امتیاز بھی آپکو خصوصی طور پر حاصل ہے کہ اس مبارک خطے میں جتنے بھی اولیا اللہ ہوئے انہیں آپکی بارگاہ فقر میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔

تذکروں کے مطابق آپ کے بول میں جادو تھا۔ شیریں بیانی اور خطابت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ جلد ہی آپ کی تعلیمات و مواعظ کی دھوم مچ گئی اور دور ونزدیک سے سینکڑوں لوگ فیوض وبرکات حاصل کرنے کے لیے آنے لگے۔ آپ کا دستر خوان امیر وغریب کے لیے بچھا رہتا تھا۔ آپ کے مرکز فقر کے بالکل سامنے دریا کا گھاٹ تھا۔ آرپار جانے لیے کشتی یہیں سے روانہ ہوتی تھی۔ اس لئے مہمانوں اور مسافروں کا اکثر ہجوم رہتا تھا۔ تحائف قدسیہ میں تحریر ہے کہ چوپالہ میں آپ کے حصہ کی جتنی جائیداد تھی وہ ہجرت کے وقت آپ ساری کی ساری فروخت کردی تھی اور جو نقدی وغیرہ ساتھ لائے تھے اس سے شرقپور میں کچھ جگہ رہائش کے لئے اور کچھ زمین کاشت کے لئے خریدلی تھی۔ اور جو پیدوار حاصل ہوتی تھی اس میں سے کچھ اپنی گزر اوقات کیلیے رکھ لیتے تھے۔ باقی لنگر کی صورت میں مخلوق خدا کی نذر کردیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ اس علاقے میں قحط سالی ہوئی تو آپ نے غریبوں، فقیروں، محتاجوں، مسافروں اور مہمانوں کے لئے لنگر عام کردیا۔ طعام میں اتنی برکت ہوجاتی تھی کہ سارا دن اور رات گئے تک حاجت مند سیر ہوکر کھاتے تھے۔ سچ ہے کامل فقیر کا دروازہ جودو سخا کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ آپ کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ جس کھانے پر اپنا ہاتھ رکھ دیتے تھے قدرت کاملہ اس میں بڑی برکت فرمادیتی تھی۔

آپ سے بہت سے کرامات اور کشف وتصرفات کا ظہور ہوا۔ آپ اللہ تعالیٰ کی محبت میں گداز تھے۔ اس لئے قدرت کے انعامات کا آپ کے عمل سے اظہار ہوتا رہا۔ آپ کے مرید نانک حجام کے ہاں اولاد نہ تھی۔ جوانی ڈھل رہی تھی، بیوی بھی عمررسیدہ ہورہی تھی ایک دن آپ کی حجامت بنارہا تھا کہ دعا کا طلب گار ہوا۔ آپ نے فرمایا نانک اگر خالق کائنات اور قادر مطلق نے حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ اسلام کو بڑھاپے میں صاحب اولاد کردیا تھا توتجھے بھی عطا کرے گا۔ پھر اس کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس کے ہاں چار بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ پہلے بیٹے کی پیدائش پر نانک آپکی خدمت میں خوشی خوشی دیسی گھی کے میٹھے پراٹھے لایا اور دودھ ک میٹھی لسی پیش کی۔ اب آپ کے عرس پر ہر سال لوگ جنہیں آپ کی روح پر فتوح کے وسیلہ جلیلہ سے قدرت اولاد عطا فرماتی ہے۔ وہ میٹھے پراٹھے لاتے ہیں اور بابا نانک کے ثمرہ اولاد کی یاد دلاتے ہیں۔

ریاضت اور عبادت کی کثرت سے آپ کے وجود کی کثافت پر لطافت روح غالب آگئی تھی۔ ایک روز آپ چھت پر لیٹے ہوئے تھے کہ دور سے کسی ساز کی آواز کان میں پڑی۔ عشق الٰہی کی آگ تو سینے میں پہلے ہی بھڑکتی تھی۔ ایسے مست بخود ہوئے کہ آپ کا وجود مبارک فضا میں چالیس گزاوپر کی طرف بلند ہوا۔ فضا میں چند لمحے وجد میں رہے پھر نیچے گرے مگر آپ کو ذرا بھی تکلیف نہ پہنچی، نہ چوٹ آئی۔ حضرت حافظ محمد یعقوب جامع مسجد شرقپور کے متولی تھے۔ زبردست عالم تھے۔ شاہ محمد مراد کے سماع سننے کی وجہ سے مخالف تھے۔ ایک روز آپ نے ان پر ایسی توجہ کی کہ وہ مطیع ہوگئے۔

آپ کی شادی اپنے خاندان میں ہوئی تھی لیکن اہلیہ کے انتقال کے بعد دوبارہ شادی نہ کی۔ اس لئے آپ نے بھائی عبدالرحمٰن کے بیٹے حضرت میاں ہرنی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو اپنی جوانی ہی میں سایہ پدری سے محروم ہوگئے تھے۔ اپنا خاندانی اور وراثتی جانشین بنایا۔ ان کی علمی وروحانی تربیت فرمائی۔ شادی کی اور باپ کے قائم مقام ہر طرح سے ان کی سرپرستی کا حق ادا کیا۔ لیکن طریقت کے لحاظ سے اپنے مرید خاص حضرت میاں خوشحال رحمتہ اللہ علیہ کو جو غازی پور کے گھگ خاندان میں سے تھے۔ اپنی خانقاہ کا سجادہ نشین مقرر کیا مگر حضرت شاہ محمد مراد کی رحلت کے بعد انہوں نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے سجادہ نشین کی دستار، جائز وارث اور حقدار سمجھتے ہوئے حضرت میاں ہرنی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے سرپر رکھ دی۔ حضرت شاہ محمد مراد رحمتہ اللہ علیہ کی وفات 1176 ہجری بطابق 1762 عیسوی میں ہوئی۔ مزار اقدس شرقپور شریف کی مشرقی جانب محلہ حضرت ہرنی شاہ صاحب کے اندر واقع ہے۔ جہاں ہر سال 4،5 اور 6 ہاڑ کو عرس مبارک کی تین روزہ تقریبات ہوتی ہیں۔ قرآن خوانی ہوتی ہے۔ محفل میلاد و مواعظ آراستہ ہوتی ہے۔ نیز مجالس سماع کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ بہت سے اہل ذوق پر وجد وحال کی کفیت طاری ہوتی ہے۔ یہ تقریبات دارصل آپ خود اپنی زندگی میں اپنے پیرومرشد کی سنت کے مطابق کیا کرتے تھے۔ چنانچہ وارثان بازگشت اس روائت پر عمل پیرا ہیں۔ جو ادب ان محفلوں میں نظر آتا ہے۔ کہیں اور کم دیکھا جاتا ہے۔ آپکو ایصال ثواب کے لیے عقیدت مند میٹھے پراٹھے اور دودھ سے بنے ہوئے ٹھنڈے میٹھے مشروبات عوام کو پیش کرتے ہیں۔ عرس کے موقع پر مزار کے محلے میں دکانیں بھی سجائی جاتی ہیں۔ زائرین کے لئے عقیدت گزار سبیلوں کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔ شہر کے لوگ اسے گلی والا میلہ بھی کہتے ہیں۔ اپنے انداز کی یہ قابل دید روحانی اور عرفانی تقریب ہوتی ہے۔ آپ کی درسگاہ کے موجودہ سجادہ نشین حضرت صاحبزادہ میاں نور محمد نصرت نوشاہی صاحب ہیں۔ جو اپنی فکری، عملہ اور روحانی وسعت نظر کے ساتھ آپ کی تعلیمات اور اسلاف کے بزرگوں کے مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ضرت شاہ محمد مراد صوفی شاعر بھی تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں عشق الہی کی چنگاری روشن کرنے کے لئے عمدہ جذبوں کا اظہار کیا۔ وحدت نامہ آپ کا مختصر سا مجموعہ کلام ہے۔ جس کی شرح برصغیر میں سلسلہ اویسیہ کے ممتاز عالم دین اور عارف ربانی، حضرت خواجہ نورالحسن صاحب تارک اویسی چنیڈوی نے کی ہے۔ جو تاحال غیر مطبوعہ ہے۔ اب کے پڑپوتے خواجہ نورالزمان اویسی، اسے شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند قلمی کتابیں آپ کی اور حضرت میاں ہرنی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ذوق کے مطالعہ اور علم دوستی کے ثبوت میں بطور یادگار موجود ہیں۔

حضرت سید حافظ محمد ہاشم شاہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ جو زیادہ تر حافظ شاہ سندھی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا دربار لال پلی کے قریب واقع ہے۔ لوح مزار سے آپ کے دور کا تعین نہیں ہوتا کہ آپ کس سن میں یہاں تشریف لائے۔ کیوںکہ آپ کے وصال کی کوئی تاریخ نہیں لکھی گئی ہے۔ تاہم روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ چار بھائی تھے جو تبلیغ دین کے سلسلہ میں ٹھٹھہ (سندھ) سے ادھر آئے۔ ان بھائیوں میں دوسرے تین بھائی کے نام یہ ہیں۔
حضرت سید نور شاہ سندھی جن کا مزار مانگٹانوالہ اڈا کے قریب سلیم پور پکا میں ہے۔
حضرت سید میراں شاہ سندھی جن کا مزار اولا موضع کھائی میں تھا مگر اب انہیں اڈا کلال (کلال والا کھوہ) میں منتقل کردیا گیا ہے۔ حضرت سید نظام شاہ سندھی جن کا مزار مدر مدر جسے ہفت مدر بھی کہتے ہیں اور جو موڑ کھنڈا کے قریب ہے۔

حضرت سید نور شاہ سندھی کے مزار کی لوح پر کوئی تاریخ وغیرہ نہیں لکھی گئی تاہم رائے مشتاق احمد صاحب کھرل کی روائت کے مطابق کہ چونکہ سلیم پور پکا کو شہزادہ سلیم (جہانگیر) نے آباد کیا تھا اس لیے کہ اس علاقے میں اس کی شکار گاہ تھی اور جو لوگ اس کے شکار میں مددکرتے تھے ان کے لیے سلیم پور بستی آباد کی گئی تھی۔ یہ بستی ایک فصیل کے اندر واقع تھی اس فصیل کے دو دروازے تھے۔ ایک پکا اور ایک کچا۔ ان دروازوں کی مناسبت سے کچے دروزے والے لوگ اپنی آبادی کو سلیم پور کچا کہتے تھے اور پکے دروزاے والے لوگ اپنی آبادی کو سلیم پور پکا کہتے تھے۔ سلیم پور پکا تو ایک زبردست زلزلے سے نابود ہوگیا تھا۔ اب دربار کے قریب لوگوں کی روایت کے مطابق کم وبیش 37 ایکٹر رقبے کا بہت بڑا قبرستان ہے۔ ان قبروں پر پرانی طرز کی اینٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ جو زمین دوز بستی کی دیواروں کی ہیں۔ حضرت سید نور شاہ سندھی کی قبر مبارک ساڑھے 8 فٹ لمبی ہے۔ یہ قبر اس کمرے میں ہے جہاں حضرت شاہ صاحب کی رہائش تھی۔ لوگ کہتے ہیں زلزلہ سے ساری بستی تباہ ہوگئی مگر یہ مکان محفوظ رہا۔ سلیم پور کچا اب تک قائم ہے۔ رائے مشتاق احمد کھرل جو بہت بڑے زمیندار ہیں اور اس بستی کے مالک ہیں۔ ان لوگوں کی روایت کے مطابق حضرت سید نور شاہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ جب تشریف لائے تویہ بستی سلیم پور آباد ہوچکی تھی۔ لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بزرگ جہانگیر کے عہد میں ادھر آئے۔ لہذا حضرت سید ہاشم شاہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ کی آمد بھی جہانگیری عہد میں تسلیم کرنے پڑے گی۔ یا زیادہ سے زیادہ اکبری عہد میں۔ متولیان حضرت سید ہاشم شاہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ آپ (حضرت ہاشم شاہ سندھی) حضرت سید محمد امیر عرف سید بالا پیر بن سید محمد مستقیم شاہ حجرہ شاہ مقیم کے مریدین خاص میں سے تھے۔ یا تو حضرت ہاشم شاہ سندھی کو حضرت بالا پیر سے نسبت طریقت نہیں یا آپ کی آمد عہد جہانگیری میں نہیں ہوئی ہے۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی نسبت طریقت پہلے کسی اور سلسلہ میں اور پھر سلسلہ قادریہ میں آپ حضرت سید بالا پیر سے فیض یاب ہوئے ہوں۔

یہ حقائق ہمیں یہ بات کہنے میں رہنمائی کرتے ہیں کہ حضرت حافظ ہاشم شاہ سندھی کی آمد کا دور تقریبا وہی ہے جس دور میں شرقپور شریف آباد ہوا ہے۔ عین ممکن ہے کہ حضرت شاہ صاحب حافظ محمد جمال کے قافلہ کے ایک فرد ہوں۔ کیونکہ حافظ محمد جمال بھی اس بستی (دیپالور) سے آئے تھے جو حجرہ شاہ مقیم سے زیادہ دور نہیں ہے۔

حضرت سید حافظ محمد ہاشم شاہ سندھی حسنی اور حسینی سید ہیں اور قادری سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے زہدوتقویٰ اور خدمت دین میں زندگی گزار دی یہ جذبہ اس قدر غالب رہا کہ آپ مجرورہے۔ آپ کے مزار پرانوار پر جو ایک دفعہ حاضری دیتا ہے پھر وہ خودبخود کھینچا چلا آتا ہے۔ حاضری دیئے بغیر اسے سکون نہیں ملتا۔

اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کے تذکروں میں یہ روایت ملتی ہے کہ آپ رات کو تاریکی میں آپ کے مزار اقدس پر تشریف لے جاتے تھے اور شب گزار کے اعلی الصبح واپس تشریف لاتے۔ آپ کے مزار اقدس پر ساون کی پہلی جمعرات کو بڑا شاندار میلہ لگتا ہے۔ قوالیاں ہوتی ہیں اور زائرین فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔

حضرت سائیں مراد علی آپ کے خاص خادم تھے۔ موجودہ متولیان اسی سائیں بابا کی اولاد میں سے ہیں۔
ملک امداد علی صاحب نے دربار پر خاصا تعمیری کام کروایا ہے اور میلہ کی رونق کو دوبالا کرنے میں خاصا حصہ لیتے ہیں۔
بذریعہ معلومات ماسٹر محمد اشرف - ایم اے
رائے مشتاق احمد کھرل - سلیم پور کچا

شرقپور شریف کے جانب شمال پرانا پیلس سینما اور موجودہ پیلس شادی ہال کے قریب سے جوراستہ بھوئے ڈھکو کو جاتا ہے, اس رستے پر شادی ہا ل کے پیچھے ایک برزگ ہستی حضرت خواجہ میاں محمد سعید چشتی صابری محو استراحت ہیں۔ آپ بارھویں صدر ہجری کے بزرگ ہیں۔ آپ کا تعلق ایسے بزرگان دین سے ہے جن کی زندگیاں حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کا عملی نمونہ تھیں۔ جو لوگوں کی رشد وہدایت کی تعلیم دیتے تھے۔ حضرت خواجہ میاں محمد سعید رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں جو بھی شخص حاضر ہوتا روحانی فیض حاصل کرتا اور آپ کی توجہ اور نگاہ کرم سے حق تعالیٰ سبحانہ کی طرف مائل ہوجاتا۔
حضرت خواجہ میاں محمد سعید 1140 ہجری بمطابق 1727 عیسوی میں لاھور کے نواح میں واقع ایک چھوٹے سے گاوں مانگا میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد کا نام شیخ باقر علی تھا۔ جن کی خاندانی گوت ڈھنڈہ تھی۔ آپ نے قرآن پاک کے علاوہ دیگر علوم کی

تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ مگر صداقت کا پہلے شروع زندگی پر غالب تھا۔ اگر باپ کو کاروباری مصلحت کے تحت جھوٹ بولنا پڑتا تو اسے منع فرمادیتے۔ باپ کو یہ بات اچھی نہ لگتی تھی وہ کہتا بیٹا، خریدوفرخت میں چیزوں کی قیمت میں تھوڑا بہت اتار چڑھاو قائم رکھنا پڑتا ہے۔ ورنہ گاہک چیز نہیں خریدتا۔ خواجہ محمد سعید ان باتوں کے قائل نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ والد اپنا کاروبار ان کے سپرد کرنے کو تیار نہ تھے۔ اور فکر بھی کرتے تھے کہ اگر جوان بیٹے نے کاروبار میں ہاتھ نہ ڈالا تو زندگی کے جھمیلوں میں کیسے کامیاب ہو گا۔ آخر خواجہ صاحب خود ہی اپنے دوستوں کے ہمرا کچھ غلہ وغیرہ لیے کر فروخت کرنے کو لاھور میں گئے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نفع کمایا۔ دوسری تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا، اس پر والد ماجد بہت خوش ہوئے۔

ایک بار چاولوں کی دوبوریاں اپنے بیل پر لادے دوستوں کے ساتھ لاھور جارہے تھے کہ رستہ میں شاہ پور کانجرہ کے پاس حضرت نصیر الدین پیر مدرسہ کے قریب ایک کھڈ میں ان کے بیل کا پاوں اٹک گیا اور وہ گرگیا جس سے اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئ اور بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہا۔ دوسرے ساتھی انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ بیل کے پاس بیٹھ گئے۔ غلہ کی بوریاں بھی تھیں۔ جنگل اور ویرانہ میں چوروں اور ڈآکووں کا خدشہ بھی تھا۔ شام ہوئی اور رات کا اندھیرا امڈھنے لگا، تو انجانے خوف نے دل کو گھیر لیا۔ 20 سال کے اس نوجوان کو وحشت کے سائے ڈرانے لگے۔ پھر اچانک یہ رونے لگا۔ روتا بھی اور بھرائی ہوئی آواز میں اللہ اللہ بھی کہنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد بادل بھی گھر آئے۔ اندھیرا اور گہرا ہو گیا۔ بجلی کڑکتی اور چمکتی تو یہ نوجوان سہم کے رہ جاتا۔ جس اللہ کا نام اس نے سن رکھا تھا اس کو یاد کرنے لگا کہ اچانک ایک گھڑ سوار اس کے پاس آیا۔ نوجوان کی تو چیخیں نکل گئیں۔ اس کے خیال کے مطابق یہ کوئی لٹیرا تھا۔ اس کے رونے اور چیخوں میں اور تیزی آگئی۔ مگر گھڑ سوار اس کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔ بڑی میٹھی اور پیاری آواز میں کہا تمہارے رونے کی وجہ کیا ہے ؟

نوجوان کو اس آواز میں بڑی ہمدردی کا احساس ہوا عرض کیا میرے بیل کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔ غلے کا بوجھ میرے پاس ہے میرے ساتھی چلے گئے ہیں۔ میں اکیلا جنگل میں بیٹھا اپنی قسمت کو رورہا ہوں۔ گھڑ سوار نے کہا بیٹا، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کا بیل توٹھیک ہے۔ اس کی ٹانگ بھی نہیں ٹوٹی۔ آپ کو ویسے ہی وہم ہوگیا ہے۔ بھلا اسے اٹھا کر تو دیکھو۔
اب نوجوان نے بیل کو اٹھایا تو وہ واقعی اٹھ بیٹھا اس کی ٹانگ ٹھیک ہو چکی تھی۔ اب اس گھڑ سوار نے کہ اپنا بوجھ اس بیل پر لادو اور اپنی منزل کا راستہ ناپو۔

نوجوان نے کہا یہ بھاری بوجھ مجھ اکیلے سے نہیں لادا جائے گا۔ نووارد نے اپنا عصہ بوجھ کو لگایا تو وہ خود بخود بیل کی پیٹھ پر لد گیا۔ اس کے بعد گھڑ سوار نے اس نوجوان کو دعا دی کہ اللہ تمہیں اپنی منزل مقصود پر صحیح سلامت پہنچائے۔ اس کے بعد وہ گھڑ سوار جدھر سے آیا تھا ادھر جانے لگا۔
نوجوان جلدی سے آگے بڑھا اور گھوڑے کی لگامیں پکڑ لیں۔ عرض کیا حضور آپ کون ہیں؟ آپ تو میرے لیے مسیحا بن کے آئے ہیں۔ آپ اپنا نام تو بتا دیں۔
گھڑ سوار نے کہا میرا نام علی اسد اللہ الغالب ہے۔
عرض کیا۔ اگر میں آپ سے ملنا چاہوں تو کہاں اور کیسے مل سکتا ہوں ؟
آپ نے فرمایا اسی جگہ پر، مزید فرمایا اپنے غلے کو بوریوں میں رہنے دینا اور فروخت کرتے رہنا یہ ختم نہ ہوگا۔ پھر وہ نووارد آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔
اب مشرق کی جانب سے دن کا اجالا جھانکنے لگا تھا۔ نوجوان لاھور نہیں گیا۔ وہ واپس اپنے گاوں مانگا میں آگیا اور غلہ بیچنا شروع کیا۔ کئی بوریوں کے برابر غلہ بک گیا۔ مگر بوریاں جوں کی توں بھری رہیں۔ غلے میں یہ برکت اور بیل کی ٹانگ ٹھیک ہوجانے کے واقعہ نے نوجوان محمد سعید کو مجبور کردیا کہ وہ پھر اسی برزگ ہستی سے ملے۔

آپ واپس اسی جنگل میں آگئے جہاں آپ کے بیل کی ٹانگ ٹوٹی تھی اور ٹھیک ہوئی تھی۔ یہاں آپ علی علی پکارتے رہے کہ اچانک کسی کی آواز میں پانی مانگنے کی صدا آئی مگر نظر کوئی نہیں آرہا تھا۔ آپ نے 24 سال تک اس جنگل میں لوگوں کو پانی پلایا۔ گھڑا آپ کے سر پر رہتا اورپیالہ ہاتھ میں۔ پھر ایک دن ایک غیبی آواز نے آپ کی رہنمائی کی کہ آپ ملتان میں جائیں اور حضرت شاہ محمد مراد کے دست حق پرست پربیعت ہوں۔

حضرت شاہ محمد مراد حضرت محکم الدین سیرانی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید خاص تھے۔ آپ کا مزار بیرون لوہاری گیٹ پرانی کوتوالی کے نزدیک مرجع خاص و عام ہے۔ چنانچہ آپ ملتان تشریف لیے گئے اور ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے۔ ایک سال تک مرشد کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتے رہے اور عبادت و ریاضت کی اور سلوک کی منزلیں طے کرتے رہے۔
ایک دن مرشد نے انہیں ایک برگد کا ایک پودہ دیا اور فرمایا جہاں یہ پودا جڑ پکڑے گا وہیں آپ قیام کریں گئے اور لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے۔

اب آپ چلتے چلتے اولا فیض پور کلاں کے نزدیک دھوپ سٹری گاوں میں دو سال تک ٹھہرے مگر پودے نے جڑ نہ پکڑی۔ پھر شرقپور شریف کے نزدیک حضرت سخی شاہ بخاری کے ہاں دو سال تک قیام فرمایا۔ مگر پودے نے یہاں بھی جڑ نہ پکڑی۔ حضرت سخی شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اے سعید جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سماسکتیں اسی طرح آپ کی یہ جگہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ آپ بلند مقام رکھنے والے ہیں۔ لہذا شرقپور میں چلے جاہیں۔
پھر آپ شرقپور شریف میں تشریف لے آئے اور یہیں آپ کے پودے نے بھی خوب جڑیں پکٹر لیں۔ لہذا آپ نے یہیں قیام فرمایا اور فیوض وبرکات بانٹنے لگے۔
یہیں آپ نے 23 رجب المرجب 1214 ہجری، 1799 عیسوی کو وفات پائی اور یہیں آپ کا مزار پر انور تعمیر ہوا۔

حضرت خواجہ میاں محمد سعید کے اقوال زریں:

اہل بیت کا احترام کرو تا کہ فراموش نہ کردیئے جاو۔
خواہشات باطلہ کو چھوڑ دینے سے زندگی کو بقا ملتی ہے
ظلم و تشدد اور بے جا غصہ اور سنگدلی قابل مذمت ہیں۔
حضرت مولائے علی کی زندگی کا نمونہ انسان کی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے۔
اسم اللہ کا ذکر نفس کی موت کا باعث بتنا ہے۔

آپ شرقپور شریف کے قدیم بزرگوں میں سے ہیں۔ آپ کی پیدائش 1136 ہجری بطابق 1724 عیسوی میں ہوئی۔ آباو اجداد کا تعلق گجرات کے قریب ایک گاوں سے تھا۔ گھر میں غربت ہی غربت تھی۔ والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا محنت مزدوری کرکے ان کا ہاتھ بٹائے مگر برخوادار اسیے کاموں کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے وہ تو فقیرانہ زندگی بسر کرنا چاہتے تھے۔ آخر وہ ایک دن گھر سے نکل گئے اور فقیروں کے اس قافلے سےمل گئے جو شرقپور شریف کے طرف آرہا تھا۔ یہیں شرقپور شریف میں ان کی ملاقات حضرت میاں ہرنی شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی پھر انہیں کے ہو کے رہ گئے۔ انہیں کی خدمت اور سیوا کرتے رہے۔ انہیں سے قرآن پاک پڑھا۔

حضرت میاں ہرنی شاہ قادری نوشاہی سلسلہ کے بزرگ تھے۔ حضرت میاں محمد برخودار اس مسلک میں ان کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور مرشد کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت و ریاضت کرنے لگے۔ آپ شب زندہ دار تھے اور درودوظائف میں دن کا اکثر حصہ گزارا کرتے تھے۔ مرشد کا ان کی ادا پسند آگئ آپ نے خلافت سے نوازا۔ اب مرشد چاہتے تھے کہ وہ اس سلسلے کی اشاعت کریں مگر مرید مرشد کے آستانے سے دور نہیں جانا چاہتے تھے۔ میاں محمد برخودار کی عمر اس وقت 40 سال کی تھی جب مرشید حضرت ہرنی شاہ کا وصال ہوگیا۔ مرشد کے فراق میں آپ ان کی قبر سے لپٹ لپٹ کررویا کرتے تھے۔ پھر ایک رات مرشد کا غیبی اشارہ پا کر چلے گئے۔ مگر زیادہ دور نہیں۔ شرقپور کے شمالی جانب ٹیلی فون ایکسینچ کے قریب ٹنڈاں والی مشہور بوہٹر ہے یہ ان ہی کے ہاتھ کی لگائی ہوئی ہے۔ اور اس وقت لگائی تھی جب آپ نے اس جگہ خانقاہ بنائی تھی۔ ایک کھوئی بھی لگائی جس کا پانی بڑا ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ ادھر سے گزرنے والے لوگ اس پانی سے مستفید ہوتے تھے۔ بلکہ بعض لوگوں کا اعتقاد تھا کہ اس کھوئی کا پانی بہت سے بیماریوں کے لیے مفید ہے۔ لوگ دور دور سے آکر اس سے پانی کی بوتلیں بھر کے لے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ کچھ عرصہ جاری رہا۔ اب نہیں۔

آپ محفل سماع کا اہتمام ہر مہینے کیا کرتے تھے۔ اور یوں جنگل میں منگل بن جاتا۔ پھر اس محفل میں شمولیت کرنے والوں کو اچھے اخلاق وعادات کی اپنانے کی تلقین فرمایا کرتے۔

میاں محمد برخودار کا وصال 1210 ہجری بطابق تقریبا 1796 عیسوی میں ہوا۔ اس وقت ان کے مرشد حضرت میاں ہرنی شاہ کے وصال کو 34 سال گزر چکے تھے۔ چونکہ مرشد کے وصال کے وقت ان کی عمر 40 سال کی تھی۔ لہذا انہوں نے تقریبا 74 سال کی عمر میں وفات پائی۔

ایک مدت تک ان آپ کی قبر مبارک اور مزار کچا رہا۔ جس پر ان کے ہاتھ کا لگایا ہوا بڑھ کا درخت سایہ فگن رہتا۔ سائیں محمد علی مزار اور قبر کو پختہ بنوادیا ہے۔ دربار کے اردگرد کی وقف زمین جو رقبے میں تقریبا 3 ایکٹر ہے وہاں پھول ہی پھول لگے ہوئے ہیں۔ جو مختلف رنگوں اور مختلف اقسام کے ہیں۔ اور حضرت میاں محمد برخودار کے ماحول کو رنگین اور معطر بنارہے ہیں۔

میاں محمد برخودار کا میلہ 24 ہارڑ کو ہر سال ہوتا۔ بہت پہلے کبڈی، قوالی اور مجرا ہوا کرتا تھا۔ مگر اب ایسا نہیں ہوتا۔ میلے والے دن چند چھوٹی چھوٹی دوکانیں لگتی ہیں۔ قرآن خوانی اور نعت خوانی کے بعد ختم شریف ہوتا ہے۔ اور لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔ قوالی کی محفل سائیں محمد علی کے گھر کے سامنے چوک شیرربانی میں ہوتی ہے۔ شائقین محفل سماع کی رونق کو خوب دوبالا کرتے ہیں اور روپوں کی بارش کرتے ہیں۔

حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری مشائخ کی دنیا میں فخر المشائخ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں اور پہچانے جاتے ہیں۔ اور آپ واقعتہ فخر المشائخ تھے۔ آپ اپنے مقام اور کام کے اعتبار سے صف اول کے مشائخ میں کھڑے ہونے کے قابل ہیں۔ حضرت صاحبزادہ فیض الحسن شاہ صاحب نے مولانا منصب علی مرحوم صدر مدرس جامعہ دارلمبلیغین کی موجودگی میں صاحبزادہ میاں سیعد احمد صاحب سے فرمایا کہ نقشبندیت اور مجددیت کی متعارف کرانے میں جتنا کام حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کیا ہے اتنا کسی بھی سجادہ نشین کے حصے میں نہیں آیا۔ اس اعتبار سے آپ بجا طور پر قابل فخر ہستی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ایک طرف فخر ملت تھے تو دوسری طرف فخر المشائخ بھی تھے۔ ان کے فخر المشائخ ہونے میں ان کے دینی اور تبلیغی کاموں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ اور جب ان کاموں میں ان کی دن رات کی مصروفیات دیکھتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ آپ دوسرے فخر المشائخ کی طرح حجروں میں بالکل نہیں بیٹھے، بلکہ اپنی زندگی کو سفر سے جوڑے رکھا۔ صبح آپ شرقپور شریف میں ہوتے تو دوپہر کو فیصل آباد میں اور رات کراچی میں گزارتے۔ بلکہ رات کا بھی زیادہ حصہ کسی نہ کسی

جلسے کی صدرات کررہے ہوتے۔ جلسہ کے منتظمین عمدہ قسم کے کھانے پیش کرتے مگر آپ چند لقمے کھانے پر ہی اکتفا کرتے۔ رات بسر کرنے کا کمرہ اور بستر آپ کو دکھایا جاتا مگر آپ جائے نماز پر سجود وقیام میں لگ جاتے۔ کراچی کے لوگ یہی سمجھتے کہ اب آپ کے آرام کرنے کا وقت ہے صبح سویرے آپ سے ملاقات کریں گئے یا ناشتہ پر بلائیں گے۔ مگر صبح پتہ چلتا کہ آپ پشاور کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ کچھ لوگ سوال کرتے کہ آپ سوتے کب تھے۔ اس کا جواب ہے کہ آپ سوتے ضرور تھے مگر ہماری طرح گھوڑے بیچ کرنہیں سوتے تھے بلکہ ٹرین اور جہاز میں جب منزل کی طرف رواں ہوتے تو آپ سیٹ کا سہارا لے کر نیند کے خمار کو دور کر لیتے۔

حضرت صاحبزاہ میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری 23 فروری 1933 عیسوی بمطابق 27 شوال 1351 ہجری بروز جمعرات صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔ آپ حضرت میاں غلام اللہ المعروف ثانی لا ثانی برادر حقیقی حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے فرزند تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے اس وقت حضرت ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد تشریف فرماتھے۔ نماز سے فراغت کے بعد جب آپ گھر تشریف لائے تو مائی گاماں (دائی غلام فاطمہ زوجہ رحیم بخش ماچھی) نے بچے کی پیدائش کی خوش خبری سنائی۔ یہ خبر سنتے ہی حضرت میاں غلام اللہ صاحب کا چہرہ خوشی و مسرت کے باعث کھل گیا۔ جب آپ اندر تشریف لائے تو مائی گاماں نے بچے کو پیش کرتے ہوئے عرض کیا۔ حضور میرے شہزادے پیر کے کانوں میں اذان کہیں اور گھٹی دیں۔

حضرت ثانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مائی گاماں کو دوسرے تحائف کے علاوہ 60 روپے نقدی اور دوسرے دن اس کے خاوند رحیم بخش ماچھی کو 25 روپے نقدی اور کھیس دیا۔ اس موقعہ پر کسی عورت نے حضرت ثانی صاحب سے عرض کیا یہ بچہ تو جمیل (خوب صورت) ہے۔ آپ نے فرمایا جمیل تو بس احمد مصطفی ﷺ کی ذات ہے۔ چنانچہ جمیل احمد کے امتزاج سے اس شہزادے کا نام جمیل احمد رکھا گیا۔
حضرت صاحبزادہ میان جمیل احمد صاحب واقعی اسم بامسمیٰ تھے۔ سنت مصطفوی ﷺ کے مطابق نومولود کی ولادت باسعادت کے ساتویں روز عقیقہ کیا گیا اور ختنے بھی کئے گئے۔ آپ کے ختنے لالہ غلام محمد حجام نے کئے۔ یہی لالہ غلام محمد حجام اعلیٰ حضرت قبلہ حضرت شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ اور ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی حجامت بھی بنایا کرتا تھا۔

آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز قرآن مجید ناظرہ پڑھنے سے کیا۔ مولانا محمد علی صاحب نے آپ سے آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھ لیا۔ اس کے بعد آپ اپنے والد محترم حضرت میاں غلام اللہ ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ سے علوم اسلامیہ کی تعلیم کا آغاز کیا۔ حضرت شیخ سعدی شیرازی کی مشہور زمانہ کتابیں گلستان وبوستان سبقا پڑھیں۔ پھر آپ نے پرائمری سکول شرقپور سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ اس وقت سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد احمد خان تھے۔ جو بڑے نیک صوم وصلوۃ کے پابند اور باریش تھے۔ پرائمری کی جماعتیں پاس کرنے کے بعد 1944 میں گورنمنٹ ہائی سکول شرقپور میں پانچویں جماعت میں داخلہ لیا۔ اور 1951 میں میٹرک کا متخان پاس کیا۔ ازاں بعد آپ طبیہ کالج میں طب کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ حضرت قبلہ ثانی صاحب کے دست حق پرست پر بیعت کی اور دورودوظائف میں مشغول رہنے لگے۔

آپ کو اشاعت علم سے خاصا لگاو تھا۔ اور تصنیف و تالیف کی لگن اور شوق بہت زیادہ تھا۔ چنانچہ آپ نے مسائل نماز، عربی گرائمر، تذکرہ امام ابو حنیفہ اور ارشادات مجدد الف ثانی اور مسلک مجدد الف ثانی پر کتب لکھ کر شائع کیں۔ آپ نے رسالہ ماہنامہ نور اسلام شیرربانی نمبر اور مجدد الف ثانی تین جلدوں میں شائع کئے اور لطف کی بات یہ ہے کہ سب خصوصی نمبر مفت تقسیم کردیے گئے۔

حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری مدظلہ مشائخ پاکستان میں ممتاز حثیت رکھتے تھے اور آپ اہل سنت کے قدر دان بزرگ ہیں۔ میاں جمیل احمد صاحب نے سلسلہ نقشبندیہ میں سخت محنت سے کام لے کر ملک بھر کا دورہ کیا اور عقیدت مندوں کو روحانی سلسلہ سے مربوط کیا۔ علما و مشائخ سے رابطہ کر کے نقشبندی سلوک کو عام کرنے میں جدوجہد کی۔

لاھور میں 1952 سے 1964 تک مقبول عام پریس میں قیام فرماتے رہے۔ اور ہر جمعرات کو مجلس ذکرو مراقبہ ہوتی۔ 1964 میں بیرون لوہاری دروازہ کے ایک مکان میں جہان علما و فضلا اور مشائخ کا جھمگھٹا رہتا۔ طلبا اور عقیدت مند بھاری تعداد میں آتے میاں صاحب کا دستر خوان بڑا وسیع، زبان شیریں، نگاہ میں احترام، وضعداری میں آل نبی ﷺ کے اوصاف تھے جنہوں نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا تھا۔
حقیقت تو یہ تھی کہ میاں جمیل احمد صاحب ایک نوخیز پیر کی حثیت سے شرقپور شریف کی سجادگی پر جلوہ افروز ہوئے شریعت، حقیقت اور طریقت کی راہ پر گامزن ہوئے۔ لوگ آکر مرید ہوتے۔ آپ کی مجلس احراری لیڈروں کے برعکس ایک مجلس تصوف میں بدلتی رہی۔ جہاں پر علما اہلسنت آتے۔ ذکرونعت ہوتی۔ بزرگارن دین کے واقعات بیان کئے جاتے اور ہر طرف خاموشی ہوتی تو سلسلہ نقشبندیہ کے عقیدت مند مراقبے میں نظر آتے۔ میاں جمیل احمد صاحب بڑے دریا دل صاحبزادے تھے۔ ہاتھ کھلا، مہمان نوازی، دوست نوازی اور پھر مرید نوازی کے سارے مراحل سے گزرتے اور بڑی خوبی سے گزرتے۔

آپ نے اشاعت علوم اسلامیہ میں بھر پور حصہ لیا وہ مشائخ اور علما میں یکساں طور پر مقبول و محبوب تھے۔ عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ آپ نے اسلامی ممالک کے اکثر دورے کئے۔ بزرگان دین کے مزارات پر گئے۔ اور مختلف ممالک کے مشائخ سے ملے۔ آپ نے ہمیشہ علم اور علما سے محبت کی اور ان کی شخصیت کی قدر کی چنانچہ ایسے علما جو ملک میں بڑے مقتدر تھے وہ آپ کے ہاں ایک مقناطیسی کشش کے ساتھ چلے آتے تھے۔ آپ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ ان کی توقیر و تکریم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے یوں تو ایسے علما کی فہرست بہت طویل ہے مگر چند نام یہ ہیں۔

مولانا محمد بخش مسلم
مولانا محمد اکرم مجددی
مولانا محمد عمر اچھروی
مولانا عبدالغفور ہزاروی
مولانا عبدالحامد بدایوانی
مفتی محمد حسین نعیمی
محقق اعظم حکیم محمد موسیٰ امر تسری
مولانا غلام محمد ترنم
سید ریاض حسین شاہ
مولانا عبدالشکور ہزاروی
مولانا حسن سنبھلی انڈیا
مولانا سید ابوالبرکات لاھور حزب الاحناف
محدث پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب فیصل آباد
حضرت سید احمد سیعد کاظمی ملتان
الشیخ سید یوسف ہاشم الرفاعی کوئٹہ
محمد علی مراد باب المبلاحما شام
ہازم مصری جامعہ

اور بہت سے دوسرے۔ ایسے علما کے علاوہ مشائخ کرام پیران عظام اور مختلف آستانوں کے گدی نشینوں کے ساتھ آپ نے ہمیشہ رابطہ رکھا۔ حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد صاحب بڑے مہمان نواز تھے۔ اس کا اندازہ ان کے بچھے ہوئے دستر خوان سے لگایا جاسکتا تھا۔ اکثر لوگ اپنی ہمت اور طاقت کے اعتبار سے اپنے دستر خوان بچھاتے ہیں۔ ان کے دستر خوان محض دوست و احباب اور عزیز اقربا کے لئے بچھتے ہیں۔ مگر میاں صاحب کا دستر خوان تو شیرربانی دستر خوان تھا۔ جسے اعلیٰ حضرت میاں شیرمحمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ نے بچھایا تھا۔ اور اسے لپیٹا نہیں گیا۔ یہ دستر خوان شرقپور شریف کے علاوہ اسلام آباد، کراچی، لاھور، مدینہ طیبہ، عراق، ترکی اور لندن اور دوسرے کئی ممالک میں بھچا ہوا ہے۔ اس دستر خوان سے خاص و عام کے علاوہ مسلم اور غیر مسلم سب مستفید ہورہے ہیں اور انشااللہ ہوتے رہے گئے۔ یہ دستر خوان اگرچہ سادہ ہے مگر لذت اور غذائیت کے لحاظ سے جنت کا لطف پیش کرتا ہے۔ جو شخص ایک بار اس دستر خوان پر بیٹھتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کو وہ دوبار پھر اس پر بیٹھے۔

مذہبی اور دینی خدمات کے لئے بھی آپ نے 1960 میں جامعہ دارالمبلغین حضرت میاں صاحب کا قیام فرمایا۔ جو پورے انہماک کے ساتھ تدریس قرآن اور درس نظامی کی تکمیل کررہا ہے۔ ہر سال یہاں سے فارغ ہونے والے حفاظ اور علما ملک کے گوشے گوشے میں تبلیغ دین کے لیے جاتے ہیں۔ آپ نے حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کو متعارف کرانے کے لیے جو کام کیا ہے وہ شائد کوئی دوسرا نہ کرسکے۔ آپ نے یوم مجدد پاک منانے کی ایک تحریک شروع کی جو بفضلہ تعالیٰ بڑی موثر ثابت ہوئی۔ اب تو ملک کے کونے کونے میں مجدد پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دن منائے جاتے ہیں۔ انجمنیں بنی ہوئی ہیں جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ آپ بھی ایسے جلسوں کی صدرات کرتے رہے ہیں۔ یوم مجدد منانے کی طرح یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ بڑے اہتمام کے ساتھ مناتے اور منانے کی اپیل کرتے۔ اس طرح یوم صدیق اکبر بھی ایک تحریک کا رنگ اختیار کرگیا۔

اعلیٰ حضرت شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عام کرنے لیے لئے عرس شیرربانی اور یوم شیرربانی اور ختم مبارک حضرت قبلہ میاں غلام اللہ ثانی لا ثانی بڑے اہتمام کے ساتھ مناتے۔ ملک کے کونے کونے سے لوگ بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ آتے اور فیوض وبرکات سے جھولیاں بھر کے لیے جاتے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اور انشااللہ جاری رہے گا۔

مساجد کی تعمیر میں آپ نے خصوصی ذوق و شوق کا مظاہرہ کیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شیرربانی کے نام سے بننے والی تقریبا 62 مسجدیں آپ کی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔ یہ مساجد پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک خصوصا لندن، ترکی اور مدینہ طیبہ میں بھی ہیں۔ ان مساجد کے ساتھ مدارس شیرربانی اور تدریس علوم دین کا کام بھی کرتے رہے۔ اسلام آباد میں بننے والی مسجد شیرربانی میں آپ نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ آپ نے اس کام کے لیے رقوم اکھٹی کیں اور مہینوں تک اس کام کی خود نگرانی فرماتے رہے۔ آپ نے تیس سے زیادہ حج فرمائے عمروں کی تعداد کا کوئی پتہ نہیں۔ آپ اپنے مریدوں سے فرماتے کہ تم مسلمان ہو کر اپنے سچے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتے ہو مگر سکھوں کو دیکھو وہ تو اپنے گرو کی پیروی کرتے ہوئے کسی قسم کی جھجک اور شرم کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آپ اپنے ہر ملنے والے کو سنت کے مطابق داڑھی رکھنے اور سادہ لباس پہننے کی تلقین فرماتے۔

آپ نے 11 ستمبر 2013 کو بوقت نماز عصر اس جہاں فانی سے پردہ فرمایا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی وفات کی اچانک خبر ملک بھر میں عقیدت مندوں اور مریدوں کے لیے دردناک خبر تھی۔ ہر مکتبہ فکر کے لوگ پریشان نظر آئے۔ آپ کی روح اس جہان فانی سے اس انداز سے پرواز کرگئی کہ ہر دیکھنے والے لیے ایسی موت حسرت بن گئی۔ آپ کے چہرے مبارک پر ایک پرسکون مسکراہٹ تھی۔ اپنی وفات سے چند ہفتے قبل اپنے ایک خادم محمد ایوب سے مختلف ایام بدھ کی تاریخیں پوچھتے اور نوٹ کرواتے جسیے کہ انہیں بہت پہلے ہی اس بدھ کا انتظار تھا۔ آپ کے پیار ومحبت کی بنا پر ہر مکتبہ فکر کے لوگ آپ کا احترام کرتے۔ آج بھی شرقپورشریف کے پورے علاقے سے ایک بھی فرد ایسا نہیں ملے گا جو حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری کا نام احترام سے نہ لیتا ہو یا آپ کا کوئی گلہ کرتا ہو۔ آپ کی نماز جنازہ میں حد نگا تک لوگوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ گاڑیوں کی قطاریں تین چار میل تک لگ گئی تھیں اور لوگ پیدل چل کر جنازہ میں شریک ہونے کے لیے آرہے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق آپ کے جنازہ میں کوئی تین لاکھ کے قریب لوگ شریک ہوئے۔

کرامات اعلیٰ حضرت میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ
بابا محمد یعقوب، گاوں میر محمد ضلع قصور اپنی اپ بیتی سناتے ہوئے کہ کس طرح انہوں نے حضرت میاں جمیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بدولت ایک ہی رات میں پورا قرآن پاک حفظ کر لیا۔


حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری
حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری
حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری